View RSS Feed

BunnY

Wo Shakal Wo Lalay Kisi Kiyari Nahi Bhollay .. وہ شکل وہ لالے کی سی کیاری نہیں بھولے

Rate this Entry
Quote Originally Posted by BunnY View Post
وہ شکل وہ لالے کی سی کیاری نہیں بھولے : احمد فراز

وہ شکل وہ لالے کی سی کیاری نہیں بھولے
اگبور میں جو شام گزاری نہیں بھولے

صورت تھی کہ ہم جیسے صنم ساز بھی گم تھے
مورت تھی کہ ہم جیسے پجاری نہیں بھولے

اب اس کا تغافل بھی گوارا کہ ابھی تک
ہم ترکِ ملاقات کی خواری نہیں بھولے

یاروں کی خطاؤں پہ نظر ہم نے نہ رکھی
اور یار کوئی بھول ہماری نہیں بھولے

خلعت کے لئے حرف کا سودا نہیں کرتے
کچھ لوگ ابھی وضع ہماری نہیں بھولے

دانے کی ہوس لا نہ سکی دام میں مجھ کو
یہ میری خطا میرے شکاری نہیں بھولے

ہم اپنے تئیں لاکھ زِخود رفتہ ہوں لیکن
یوں ہے کہ کوئی بات تمہاری نہیں بھولے

اک لبعتِ ہندی نے فراز اب کے لکھا ہے
رادھا کو کبھی کرشن مراری نہیں بھولے

Submit "Wo Shakal Wo Lalay Kisi Kiyari Nahi Bhollay ..  وہ شکل وہ لالے کی سی کیاری نہیں بھولے" to Digg Submit "Wo Shakal Wo Lalay Kisi Kiyari Nahi Bhollay ..  وہ شکل وہ لالے کی سی کیاری نہیں بھولے" to del.icio.us Submit "Wo Shakal Wo Lalay Kisi Kiyari Nahi Bhollay ..  وہ شکل وہ لالے کی سی کیاری نہیں بھولے" to StumbleUpon Submit "Wo Shakal Wo Lalay Kisi Kiyari Nahi Bhollay ..  وہ شکل وہ لالے کی سی کیاری نہیں بھولے" to Google

Tags: None Add / Edit Tags
Categories
Uncategorized

Comments