View RSS Feed

BunnY

Har Khrash Nafs Likhay Jaun ... ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں

Rate this Entry
Quote Originally Posted by BunnY View Post
ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں : جون ایلیا

ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں
بس لکھے جاؤں ، بس لکھے جاؤں

ہجر کی تیرگی میں روک کے سانس
روشنی کے برس لکھے جاؤں

اُن بسی بستیوں کا سارا لکھا
ڈھول کے پیش و نظر پس لکھے جاؤں

مجھ ہوس ناک سے ہے شرط کہ میں
بے حسی کی ہوس لکھے جاؤں

ہے جہاں تک خیال کی پرواز
میں وہاں تک قفس لکھے جاؤں

ہیں خس و خارِ دید ، رنگ کے رنگ
رنگ پر خارو خس لکھے جاؤں

Submit "Har Khrash Nafs Likhay Jaun ... ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں" to Digg Submit "Har Khrash Nafs Likhay Jaun ... ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں" to del.icio.us Submit "Har Khrash Nafs Likhay Jaun ... ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں" to StumbleUpon Submit "Har Khrash Nafs Likhay Jaun ... ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں" to Google

Tags: None Add / Edit Tags
Categories
Uncategorized

Comments